چین اورجنوبی کوریا کے درمیان امریکی میزائل شیلڈ نصب کرنے پر تکرار | اردو میڈیا

admin
admin 11 اگست, 2022
Updated 2022/08/12 at 8:56 صبح
295298 120125 updates
295298 120125 updates

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی جانب سے تھاڈ نصب کر کے چین کی اسٹریٹجک مفادات کو نظرانداز کیا گیا ہے/ فوٹو: فائلجنوبی کوریا کی جانب سے امریکی  میزائل شیلڈ ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) کے استعمال پر چین اور جنوبی کوریا کے درمیان مفاہمت نے تکرار کی صورت اختیار کرلی ہے۔جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کی جانب سے رواں ہفتے چین کے دورے کے بعد جنوبی کوریا میں امریکی میزائل شیلڈ نصب کرنے پر چین کی جانب سے اعتراض کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاملات میں مفاہمتی عمل کے لئے ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی جانب سے تھاڈ نصب کر کے چین کی اسٹریٹجک مفادات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔2016 میں بھی چین کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ تھاڈ کے استعمال کے اعلان کے بعد تجارتی اور ثقافتی تعلقات معطل کر دیے گئے تھے، چین کا خیال تھا کہ تھاڈ کا طاقتور ریڈار سسٹم ان کے ائیر اسپیس میں مداخلت کر سکتا ہے۔ برطانوی ادرے رائٹرز کے مطابق چین کی جانب سے جنوبی کوریا کے تھاڈ سسٹم کی مزید بیٹریز کے استعمال کو روکنے اور موجود سسٹم کے استعمال کو محدود بنانے کے مطالبے پر جنوبی کورین صدارتی آفس کے اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ تھاڈ سسٹم کے استعمال کا واحد مقصد صرف اپنا بچاؤ کرنا ہے اور اپنے سیلف ڈیفنس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے صدر شمالی کوریا کے حملوں سے بچاؤ کیلئے تھاڈ کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں اور وہ اس معاملے پر خود کو  کسی پرانے معاہدے کی پاسداری کا پابند نہیں سمجھتے ہیں۔جنوبی کوریا کے وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ 2017 کے معاہدے کے پابند نہیں ہیں اور نہ ہی اس معاہدے میں تھاڈ پر کوئی بات شامل تھی، جنوبی کوریا کی جانب سے نصب کیا جانے والا تھاڈ نہ تو امریکا کے ڈیفنس سسٹم میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی یہ چین کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں ہفتے جنوبی کوریا اور چینی وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات کے دوران موسیقی، فلموں سمیت ثقافتی برآمدات کی بحالی، دونوں ممالک کے درمیان موجود تحفظات کے خاتمے، باہمی تعلقات کے مضبوطی اور شمالی کوریا کے ساتھ ڈی نیوکلیئرائیزیشن مذاکرات جیسے معاملات پر اتفاق کیاگیا تھا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔