سندھ: سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کا حکم

imran
imran 14 مئی, 2022
Updated 2022/05/14 at 6:21 صبح
627f33620c044
627f33620c044

سندھ حکومت نے پریمیئر سیکیورٹی ایجنسیوں کو ایسے افراد سے نمٹنے کہ ذمہ داری سونپی ہے جو سوشل میڈیا پر ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ’زہریلا مواد‘ پھیلا رہے ہیں اور نوجوانوں کی برین واشنگ کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ فیصلہ 27ویں اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید، ڈی جی رینجرز میجر جنرل افتخار چوہدری کے علاوہ صوبائی وزرا، پولیس چیف، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکا کو دہشت گرد تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے سوشل میڈیا استعمال کیے جانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

دہشت گرد تنظیموں کے نام اور شناخت اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ہینڈلز کی شناخت، ان کے اکاؤنٹس پر فالوورز اور ٹریفک کی تعداد سے کی گئی۔

پریمیئر ایجنسیز کو ان لوگوں کی جانچ کی ذمہ داری سونی گئی جو سوشل میڈیا پر زہریلا مواد پھیلا رہے ہیں، ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف نوجوانوں کی برین واشنگ کر رہے ہیں اور انہیں معصوم لوگوں کو قتل کرنے پر اکسا رہے ہیں جیسا کہ کراچی یونیورسٹی میں دیکھا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکام کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف اور سماج دشمن عناصر پر قابو پانا ہوگا۔

اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مختلف مظاہروں کے دوران ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف نعرے لگائے گئے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسا رویہ قابل قبول نہیں، انہوں نے پولیس اور رینجرز کو ہدایت کی کہ ایسے عناصر پر نظر رکھی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اجلاس میں اپیکس کمیٹی نے کراچی یونیورسٹی میں 3 چینی اساتذہ کے قتل کی مذمت کی اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کیا، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ واقعے کے ماسٹر مائنڈ کا سراغ لگانے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے شرکا کی مشاورت سے انٹیلی جنس نیٹ ورک اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جاسکے۔

اجلاس میں صدر کے علاقے میں ہونے والے حالیہ دھماکے کی بھی مذمت کی گئی اور اس کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

787 اسٹریٹ کرمنلز کی فہرست تیار

اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں سرگرم جرائم پیشہ افراد کے کرمنل ریکارڈ میں ہونے والی ایک جامع مشق کے ذریعے 787 عادی مجرم، 540 منشیات فروش اور 244 لینڈ گریبرز کی نشاندہی کی گئی۔

ایجنسیوں کی تیار کردہ مجرمان کی فہرستیں پولیس، رینجرز اور کور ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ شیئر کی گئیں تاکہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے کے مطابق کارروائی کو تیز کیا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2013 میں اسٹریٹ کرائم کے ایک ہزار 506 ماہانہ کیسز ریکارڈ کیے گئے تاہم 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر ماہانہ 3 ہزار 939 تک پہنچ گئی۔

اجلاس میں موٹر سائیکلوں میں ٹریکرز لگوانے کی ذمہ داری وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کو سونپ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی میں 4 لاکھ کے قریب غیر رجسٹرڈ افغان شہری مقیم ہیں جب کہ 71 ہزار 429 افغان شہری رجسٹریشن کارڈ کے حامل ہیں، ان کے علاوہ دیگر قومیتوں کے غیر قانونی تارکین وطن بھی شہر میں موجود ہیں، وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر کنٹرول مضبوط کرے۔

اجلاس میں کراچی میں اسکولوں میں منشیات کے بڑھتے استعمال کی نشاندہی پر منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا ہے، اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ایک ہزار 714 منشیات فروشوں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے