نمرہ کاظمی کیس: تفتیش پر عدم اطمینان، تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم

imran
imran 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 8:06 صبح
627aae94bb315
627aae94bb315

کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے نمرہ کاظمی مبینہ اغوا کیس کے حوالے سے ہونے والی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس حکام کو تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی جاوید علی کوریجو نے کیس کی سماعت کی اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن کورنگی کو معاملے کی تفتیش کے لیے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کرنے اور 16 مئی تک چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ ہدایات کیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے جمع کرائی گئی عبوری رپورٹ پر عدم اطمینان اظہار کرتےہوئے دیں۔

عدالت نے نشان دہی کی کہ تفتیشی افسر نے مغوی لڑکی کی عمر کا تعین کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں اور نادرا کی جانب سے جاری کیا گیا لڑکی کا مصدقہ فام (ب) یا اسکول چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ 20 دن گزر چکے ہیں لیکن تفتیشی افسر تفتیش میں کوئی پیش رفت کرنے میں ناکام ہوچکے ہی اور تاحال لڑکی کو مبینہ طور پر بازیاب نہیں کروایا گیا۔

جج نے ریمارکس دیا کہ تفتیشی افسر نے بظاہر میڈیا کی رپورٹس پر سندھ چائلڈ میریج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کا اطلاق کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ لڑکی عمر 18 سال سے کم ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے نمرہ کاظمی کے والدین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بیٹی رواں ماہ کے اوائل میں سعود آباد کے قریبی علاقے سے اچانک غائب ہوگئی تھیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کا ایک ویڈیو پیغام سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر اچانک چلنے لگا اور اس بحث چھڑ گئی۔

والدین نے بتایا تھا کہ ویڈیو پیغام میں نمرہ کاظمی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہوں نے والدین کا گھر اپنی مرضی سے چھوڑا اور بعد ڈیرہ غازی خان میں اپنی پسند سے شادی کی ہے۔

عدالت کو انہوں نے آگاہ کیا تھا کہ لاہور پولیس نے بعد میں دعویٰ کیا تھا کہ ہماری بیٹی کو بازیاب کروایا ہے، جو 18 سالہ ہیں۔

انہوں نے مزید شکایت کی تھی کہ پولیس عہدیدار انہیں اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

والدین نے عدالت سے استدعا کیا تھا کہ سعود آباد تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو طلب کرکے انہیں معاملے پر تفتیش کے حوالے سے پوچھا جائے کہ ان کی بیٹی کی شادی کیسے ہوسکتی ہے جبکہ وہ نابالغ ہے۔

عدالت سے انہوں نے درخواست کی تھی کہ ایس ایچ اور اور دیگر سینئر عہدیداروں کو حکم دیں کہ وہ ہماری بیٹی سے ملاقات کی اجازت دیں۔

خیال رہے کہ نمرہ کاظمی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ سعود آباد پولیس اسٹیشن میں ان کے گھر والوں کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیاگیا تھا۔

لڑکی کی والدہ نے نے شکایت درج کراتے ہوئے ایف آئی آر میں واقعہ بتایا تھا کہ 20 اپریل کو جب میں اپنی ڈیوٹی کے لیے گئی تھی اس وقت میری 15 سالہ بیٹی نمرہ کاظمی سعود آباد ملیر میں واقع گھر پر موجود تھی اور جب صبح 10.30 بجے کے قریب میں گھر واپس آئی تو میری بیٹی وہاں نہیں تھی۔

پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365۔بی (خواتین کو اغوا یا شادی پر مجبور کرنا) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں بھی جوڈیشل مجسٹریٹ (شرقی) جاوید احمد کوریجو نے تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جہاں آئی او نے ڈاکیومینٹری سمیت ثبوت پیش کیے تھے۔

جج نے نشان دہی کی تھی کہ نکاح نامے میں خامیاں ہیں اور تفتیشی افسر سے سی ڈی آر ڈیٹاریکارڈ طلب کرلیا تھا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے