برطانیہ 90 برس میں پہلی بار سنگین آئینی بحران کا شکار | اردو میڈیا

admin
admin 7 جولائی, 2022
Updated 2022/07/07 at 9:33 صبح
290998 010244 updates
290998 010244 updates

اس وقت استعفیٰ ملکی مفاد میں نہیں ہو گا، بورس جانسن بھی ڈٹ گئے۔ فوٹو فائلبورس جانسن کابینہ کے کئی اہم وزرا سمیت 50 اراکین پارلیمنٹ کے مستعفی ہونے کے بعد برطانیہ میں آئینی بحران سنگین ہو گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی کابینہ کے 50 ارکان کے مستعفی ہونے کے باوجود وزیراعظم بورس جانسن نے اقتدار نہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت استعفیٰ ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق 90 برس میں پہلی بار برطانوی اراکین پارلیمنٹ اور کابینہ میں شامل وزرا نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہی وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔تازہ ترین استعفے دینے والوں میں شمالی آئرلینڈ کے سیکرٹری برینڈن لیوس، وزیر برائے سائنس جارج فری مین اور سکیورٹی کے وزیر ڈیمیان ہنڈس شامل ہیں۔دوسری جانب مقامی میڈیا کا حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتانا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے مستعفی وزرا کی جگہ نئی تعیناتیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بورس جانسن کے خلاف تحریک عدم اعتماد اگلے برس تک جمع نہیں کروائی جا سکتی اور کابینہ کے اہم وزرا سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ کے مستعفی ہونے کے باوجود وہ مستعفی ہونے سے انکاری ہیں جس کے باعث برطانیہ اس قسم کے آئینی بحران کا پہلی مرتبہ شکار ہو کر رہ گیا ہے۔یاد رہے کہ مستعفی ہونے والوں میں پاکستانی نژاد برطانوی ہیلتھ سیکرٹری ساجد جاوید اور رکن پارلیمنٹ ثاقب بھٹی بھی شامل ہیں۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔