اگر وزیراعظم کو عاصم منیر کو لگانا ہے تو وہ ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کی جاب برقرار رکھ سکتے ہیں: خرم دستگیر | اردو میڈیا

admin
admin 25 نومبر, 2022
Updated 2022/11/25 at 9:04 صبح
307711 094755 updates
307711 094755 updates

اسلام  آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہےکہ وزیراعظم نے اگر آرمی چیف کیلئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نامزد کیا اور صدر مملکت نے سمری واپس کردی تو اس کے باوجود کہ عاصم منیر 27 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں وزیراعظم انہیں جاب میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام کپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ صدر مملکت قانونی طور پر آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان سے مشاورت نہیں کرسکتے، آرمی چیف وہی بنیں گے جن کی ایڈوائس وزیراعظم کریں گے۔وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ صدر مملکت قانونی طور پر آرمی چیف کی تعیناتی پر عمران خان سے مشاورت نہیں کرسکتے ، عمران خان کی بات انتہائی لغو ہے کہ صدر آرمی چیف کی تقرری پر ان سے مشورہ کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف کی تعیناتی کا جو فیصلہ کریں گے صدر آئین کے تحت اسے ماننے کے پابند ہیں، صدر وزیراعظم کے فیصلے کی منظوری دینے میں تاخیر کرسکتے ہیں لیکن انکار نہیں کرسکتے، صدر مملکت نے فیصلہ کرنا ہے کیا وہ گورنر پنجاب والی تلخ تاریخ دہرائیں گے، صدر مملکت کا گورنر خیبرپختونخوا کی تقرری پر فوراً ایڈوائس ماننا اچھی بات ہے۔خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت سمری روک کر ملک میں مزید فتنہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں تو پھیلادیں، آرمی چیف وہی بنیں گے جن کی ایڈوائس وزیراعظم کریں گے، وزیراعظم اور وزیردفاع کے پاس کسی بھی افسر کو برقرار رکھنے کا اختیار ہے، وزیراعظم نے اگر آرمی چیف کیلئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نامزد کیا اور صدر مملکت نے سمری واپس کردی تو اس کے باوجود کہ عاصم منیر 27 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں وزیراعظم انہیں جاب میں برقرار رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ اگلے چند دنوں میں بااحسن طریقے سے حل ہوجائے گا، عدالتوں میں کسی بھی معاملے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے، سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھنا ہے تو ایک دوسرے کو ڈاکو، کافر اور غدار کہنا چھوڑنا ہوگا، سیاسی جماعتوں نے فوج کے سیاست میں کردار پر ہمیشہ تنقید کی مگر عمران خان کی طرح کسی نے فوج کیلئے میر جعفر، میر صادق، غدار اور جانور کے الفاظ استعمال نہیں کیے، سیاستدانوں اور فوج کے ساتھ عدلیہ کو بھی اپنی آئینی حدود کا احترام کرنا ہے، عدلیہ سے بھی ایسے فیصلے آئے جنہوں نے سیاست کو توڑمروڑ کر رکھ دیا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے