بورس جانسن کی جگہ کون برطانیہ کا نیا وزیراعظم بن سکتا ہے؟ | اردو میڈیا

admin
admin 7 جولائی, 2022
Updated 2022/07/08 at 7:40 صبح
291021 043503 updates
291021 043503 updates

بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے / رائٹرز فوٹوبرطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ اور عوام کے شدید دباؤ کے باعث وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس فیصلے کے بعد بطور وزیراعظم ان کے ڈھائی سالہ عہد کا اختتام ہوجائے گا اور نئے رہنما کی تلاش شروع ہوگی۔ابھی یہ تو واضح نہیں کہ بورس جانسن کی جگہ کون برطانیہ کا نیا وزیراعظم بن سکتا ہے مگر کچھ نام ضرور سامنے آئے ہیں۔لز ٹرسبرطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی میں بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور وہ اکثر پارٹی اراکین کے پولز میں سرفہرست آتی ہیں۔46 سالہ سیاستدان نے بورس جانسن کے دور میں 2 سال وزیر تجارت کے طور پر گزارے جبکہ وہ بریگزیٹ کی حامی ہیں، گزشتہ سال انہیں یورپی یونین سے مذاکرات کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔گزشتہ دنوں لز ٹرس نے کہا تھا کہ وہ بورس جانسن کی 100 فیصد حمایت کررہی ہیں اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی بورس جانسن کو سپورٹ کرنے کا کہا تھا۔جرمی ہنٹ55 سالہ سابق وزیر خارجہ 2019 میں بورس جانسن کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ وہ زیادہ سنجیدہ سیاستدان ہیں۔گزشتہ 2 سال کے دوران جرمی ہنٹ نے زیادہ وقت پارلیمان کی ہیلتھ کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے گزارا اور بورس جانسن حکومت سے دور رہے۔جرمی ہنٹ نے گزشتہ ماہ بورس جانسن کو اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے باہر کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر ناکامی کا سامنا ہوا۔بین ویلسوزیر دفاع بین ویلس حالیہ مہینوں میں حکومت کے مقبول ترین رکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ یوکرین بحران کے حوالے سے ان کا طریقہ کار ہے۔52 سالہ بین ویلس سابق فوجی ہیں اور مئی 1999 میں سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا۔رشی سونکرشی سونک نے رواں ہفتے ہی وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور اس موقع پر کہا تھا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ حکومت صحیح اور سنجیدہ طریقے سے چلائی جانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ شاید ہم عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی توقعات پر ضرور پورا اترے گی۔رشی سونک کو کووڈ 19 کی وبا  کے دوران قتصادی معاملات پر گرفت کی وجہ سے سراہا گیا جس دوران اقتصادی پیکج بھی متعارف کرایا گیا۔مگر انہیں عام عوام کے طرز زندگی کے بڑھتے اخراجات کی روک تھام کے لیے ناکافی اقدامات پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ساجد جاویدساجد جاوید بورس جانسن کی کابینہ کے پہلے وزیر تھے جو مستعفی ہوئے۔وزیر صحت کا عہدہ چھوڑتے ہوئے ساجد جاوید نے کہا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ نہ ہم قومی مفاد میں کام کر رہے ہیں اور نہ ہی اس قابل ہیں، بورس جانسن بطور وزیراعظم میرا اعتماد کھو چکے ہیں۔پاکستانی نژاد ساجد جاوید 2019 میں بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے مگر بورس جانسن کے مقابلے میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔ندیم الزھاویحال ہی میں وزیر خزانہ منتخب ہونے والے ندیم الزھاوی اس سے پہلے ویکسین منسٹر تھے اور برطانیہ میں کووڈ ویکسینز متعارف کرانے کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہا گیا تھا۔عراق سے تعلق رکھنے والے ندیم الزھاوی بچپن میں برطانیہ آئے اور سیاست میں آنے سے قبل ایک پولنگ کمپنی YouGov کی بنیادی رکھی۔2010 میں پارلیمنٹ کا حصہ بنے اور گزشتہ ہفتے انہوں نے وزیراعظم منتخب ہونے کو بہت بڑا اعزاز قرار دیا تھا۔پینی مورڈنٹسابق وزیر دفاع کو بورس جانسن نے وزیراعظم بننے کے بعد برطرف کردیا تھا۔پینی مورڈنٹ نے 2019 میں بورس جانسن کے حریف جرمی ہنٹ کو سپورٹ کیا تھا اور وہ یورپی یونین چھوڑنے کی پرزور حامی ہیں۔پینی مورڈنٹ نے کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی تقاریب کے انعقاد کو شرمناک قرار دیا تھا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کرکے تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔


This will close in 30 seconds