اومیکرون کی نئی اقسام ویکسینیشن کے باوجود لوگوں کو بیمار کرنے کے قابل | اردو میڈیا

admin
admin 23 جون, 2022
Updated 2022/06/23 at 11:36 صبح
289545 032105 updates
289545 032105 updates

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی / رائٹرز فوٹواومیکرون کی 2 ذیلی اقسام بی اے 4 اور بی اے 5 ویکسینیشن (بوسٹر ڈوز استعمال کرنے والے بھی) یا کووڈ 19 بیماری سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس کے باعث یہ اقسام مختلف ممالک میں کووڈ کی نئی لہر کا باعث بن سکتی ہیں۔یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 ویکسینیشن کے بعد بھی لوگ ان نئی اقسام سے بیمار ہوسکتے ہیں مگر انہیں بیماری کی سنگین پیچیدگیوں سے ٹھوس تحفظ ملے گا۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ویکسینیشن یا بیماری سے جسم کے اندر وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بی اے 4 اور بی اے 5 کی روک تھام کے لیے بہت کم مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔محققین نے بتایا کہ ہم نے بی اے 1 (اوریجنل اومیکرون) اور بی اے 2 (اس کی ایک اور ذیلی قسم) کے مقابلے میں یہ نئی اقسام اینٹی باڈیز کی افادیت 3 گنا زیادہ کم کردیتی ہیں۔خیال رہے کہ اومیکرون قسم پہلے ہی لوگوں کو بیمار کرنے کے حوالے سے کووڈ 19 کے اوریجنل وائرس کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر خیال کی جاتی ہے۔محققین نے کہا کہ ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون کی یہ نئی اقسام ان مقامات پر بھی کووڈ کی لہر کا باعث بن سکتی ہیں جہاں ویکسینیشن کی شرح بہت زیادہ ہے، مگر ویکسینز کے استعمال سے بیماری کی سنگین شدت سے ملنے والا ٹھوس تحفظ برقرار رہے گا۔اس تحقیق میں 27 افراد کو شامل کیا گیا تھا جو فائرز ویکسین کی 3 خوراکیں استعمال کرچکے تھے۔محققین نے دریافت کیا کہ بوسٹر ڈوز کے استعمال کے 3 ہفتوں بعد ان نئی اقسام کے خلاف وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح اوریجنل وائرس کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ان 27 افراد میں سے کچھ اومیکرون کی دیگر اقسام بی اے 1 یا بی اے 2 سے بیمار بھی ہوچکے تھے اور ان میں بھی اینٹی باڈیز کی سطح کو کم دریافت کیا گیا۔اس تحقیق کے نتائج نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے۔اس سے قبل کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے بھی ایک نئی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے تھے جس میں بتایا گیا کہ بی اے 4 اور بی 5 ویکسنیشن کرانے والے افراد کے خون میں موجود اینٹی باڈیز سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نتائج سے ماضی میں کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد میں دوبارہ بیماری کے زیادہ خطرے کا عندیہ ملتا ہے۔پاکستان میں تو حالیہ دنوں میں کووڈ کیسز کی شرح کافی کم رہی ہے مگر بی اے 4 اور بی اے 5 اقسام اس وقت امریکا، برطانیہ اور یورپ میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں۔قبل ازیں جون میں ہی جرنل نیچر میں شائع ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ اومیکرون قسم لوگوں کی قوت مدافت کے خلاف مزاحمت کے لیے خود کو مسلسل بدل رہی ہے۔ان نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین کی بوسٹر ڈوز سے اومیکرون کی نئی اقسام جیسے بی اے 4 اور بی اے 5 سے زیادہ تحفظ ملنے کا امکان کم ہوتا ہے۔دوسری جانب موڈرنا نے 22 جون کو ایک بیان میں بتایا کہ اس کی اپ ڈیٹڈ کووڈ ویکسین بی اے 4 اور بی اے 5 کے خلاف ٹھوس مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہے۔یہ ویکسین بوسٹر کے طور پر تیار کی جاری ہے جس کا بنیادی مقصد اومیکرون اقسام کو ہدف بنانا ہی ہے۔اس ویکسین کو مستقبل قریب میں آنے والے مہینوں میں ریگولیٹری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کرکے تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔


This will close in 30 seconds

AllEscort