پاکستان کی T20 ورلڈکپ میں فتح کو 12 سال مکمل، فاتح کھلاڑیوں کا اظہارِ خیال | اردو میڈیا

admin
admin 21 جون, 2022
Updated 2022/06/21 at 1:50 شام
289311 020511 updates
289311 020511 updates

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر قومی کھلاڑیوں کی ایک ویڈیو ناقابل یقین فتح کے کیپشن کے ساتھ شیئر کی گئی ہے/ فوٹو سوشل میدیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی)  ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ  2009  میں  پاکستان کی شاندار  فتح  کو  آج   12 سال ہوچکے ہیں اور اسی مناسبت سے فاتح ٹیم  میں شامل کھلاڑیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر قومی کھلاڑیوں کی ایک ویڈیو  ناقابل یقین فتح کے کیپشن کے ساتھ  شیئر کی گئی ہے۔ویڈیو میں سابق کپتان یونس خان  نے 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحیثیت ٹیم ہر قربانی دینے کے لیے تیار تھے، بولنگ اور بیٹنگ آرڈر میں ہم بہت لچکدار تھے، ہم ہر چیلنج کے لیے تیار تھے اسی لیے اللہ نے ہمارا ساتھ دیا، ہمیں خود پر یقین تھا کہ ہم ورلڈکپ جیت کر پاکستان جائیں گے۔سہیل تنویر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2009 کی جیت کے سفر کا آغاز 2007 کے ورلڈ کپ سے ہوا تھا،  2007 میں ہم بدقسمتی سے فائنل نہیں جیت سکے تھے۔وکٹ کیپر کامران اکمل  نے کہا کہ  2009  کے ورلڈکپ  کا  آغاز اچھا نہیں تھا، پرفارمنس نہیں ہو رہی تھی لیکن ٹیم نے کم بیک کیا۔بیٹر فواد عالم کا کہنا تھا کہ جب ہم ورلڈ کپ کے لیے جا رہے تھے تو یہ ذہن میں آرہا تھا پہلے راؤ نڈ تک یا دوسرے راؤنڈ تک  لیکن ٹیم نے اچھا پرفارم کیا اور ہم ورلڈ کپ جیت کر لوٹے۔ افتخار انجم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے بہت اچھا دن تھا، امید ہے کہ ایسے دن مزید آئیں گے،  ہمیں اپنے ہیروز پر یقین ہے اور ہم دوبارہ چیمپئین بنیں گے ۔سابق فاسٹ بولر عمر گل نے کہا کہ ہالینڈ کے خلاف ہمارا میچ بڑا اہم تھا وہ ہم نے اچھے رن ریٹ سے جیتنا تھا، نیوزی لینڈ کے خلاف جو ریکارڈ بنایا ، وہ پرفارمنس مجھے یاد رہے گی ۔سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف عمر گل نے غیر معمولی اسپیل کیا ، یہ میچ اہم تھا میں نے پرفارم کیا، ایک اچھا کیچ لیا، اس کے بعد ٹیم اکٹھی ہوگئی۔سابق آل راؤنڈر عبد الرزاق نے کہا کہ  ورلڈکپ کے پہلے دو میچز ہم اچھا نہیں کھیلے تھے، مجھے ایونٹ اب تک یاد ہے، مجھے کال کیا گیا اور میں ٹیم کا حصہ بنا۔سابق کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ عبدالرزاق کا ایک اچھے وقت پر ٹیم میں آنا شاندار رہا ، شاہد آفریدی کا بروقت کھیلنے کا فائدہ ہوا، کپتان یونس خان نے مجھے فائنل میں فنش کرنے کے لیے کہا  لیکن باری نہیں آئی۔ سعید اجمل نے فتح کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یونس خان نے بہت اچھی کپتانی کی جب کہ شاہد آفریدی غیر معمولی کھیلے، بولنگ اور بیٹنگ میں پرفارمنسز بہت غیر معمولی رہیں۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے