ڈالر کی ڈبل سینچری مکمل، اوپن مارکیٹ میں 200 روپے کا ہوگیا

imran
imran 18 مئی, 2022
Updated 2022/05/18 at 8:14 صبح
6284955567319
6284955567319

ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح عبور کرگیا، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 200 روپے میں فروخت ہونے لگا جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 197 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

کاروباری ہفتے کے تیسرے روز 12 بج 2 منٹ پر 2 روپے اضافے کے بعد ڈالر نے اپنی ڈبل سینچری مکمل کی اور 200 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ادھر انٹر بینک میں بھی روپے کے مقابلے امریکی ڈالر کی قدرمیں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، انٹربینک ٹریڈنگ میں 197 روپے سے تجاوز کر گیا ڈالر کو اپنا ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک ہفتہ مکمل ہو چکا ہے، جس کی بڑی وجہ ملک کی بڑھتی ہوئی درآمدات اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق گزشتہ روز ڈالر کی قدر میں ایک روپے 10 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد کاروبار کے اختتام میں ڈالر 196 روپے 50 پیسے پر بند ہوا، آج کاروباری ہفتے کے تیسرے روز ڈالر 10 روپے 15 پیسے پر فروخت ہورہا ہے۔

مین ہیٹن بینک کے سابق خزانچی اسد رضوی نے مٹیس گلوبل کو بتایا کہ ’ریکارڈ ترسیلات کا مسلسل بہاؤ بھی ڈالر کی پرواز کو روکنے میں مدد گار ثابت نہیں ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، ڈالر آمد میں تاخیر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خاموشی کے باعث مارکیٹ میں ہلچل ہے تاہم تیل کی قیمتوں کا 110 ڈالر سے بڑھنا مزید خطرناک ہے‘۔

روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کا موجودہ سلسلہ گزشتہ ہفتے منگل کو شروع ہوا تھا، جب بین الاقوامی کرنسی 188روپے 66 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، بدھ کو ڈالر کی قیمت 192 روپے اور جمعرات کو 193 روپے 10 پیسے جبکہ پیر کو ڈالر کی پرواز 194 روپے تک جاپہنچی تھی۔

ڈالر نے اپنی قدر میں بلندی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز 196 روپے کا ہندسہ عبور کرلیا تھا۔

فوریکس ایسوسی ایشن پاکستان نے اعداد و شمار کے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر منگل کو 196 روپے 50 پیسے پر بند ہوا تھا، جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی قیمت 195 روپے 74 پیسے بتائی گئی تھی۔

یہ ایسے اعداد و شمار ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی کرنسی 200 روپے کی نفسیاتی رکاوٹ پر بند ہو رہی ہے۔

ڈالر کی قدر میں اضافے کے اثرات

ڈالر کی بلا تعطل پرواز سے خبردار کرتے ہوئے اسٹیک ہولڈر نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی پاکستان میں مہنگائی دوسری لہر کو جنم سے سکتی ہے، یہ لہر نچلے، متوسط طبقے کو شدید متاثر کرے گی۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی اقتصادی شعبہ ترقی نہیں کرے گا، کلیدی شعبے جن میں ڈیبٹ سروسنگ، صنعتوں کے درآمدات کرنے والے اور اشیائے خورونوش سے متعلق شعبے سب سے پہلے متاثر ہوں گے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کو کہنا ہے کہ روپے کی قدت میں کمی کی وجہ سے عام شہری ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدر میں کمی کامقصد درآمدات کے اخراجات بڑھنا ہے جس نے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور ان حالات میں امرا کے برعکس غریب اور متوسط طبقے کے زیادہ متاثر ہوں گے۔

لکی موٹر کارپوریشن لمیٹڈ کے سی ای او آصف رضوی کاے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوگا، مستقبل قریب میں کار کی فروخت متاثر ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ کاروں کی خریداری کے اعدادی شمار بہتر ظاہر ہورہے ہیں لیکن شرح سود میں اضافے اور گاڑیون کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب نئی بکنگ میں تیزی سے تنزلی دیکھی گئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ امکان ہے کہ آئندہ مہینوں میں آٹو فنانسنگ کی شرح زیرو پر آجائے‘۔

دریں اثنا، ایسوسی ایشن آف بلڈر اینڈ ڈیلوپرز کے کے چیئرمین محسن شیخانی کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں زبردست کمی کی وجہ سے تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپارٹمنٹ کی تعمیر 5 ہزار 500 سے 6 ہزار اسکوائر فٹ پر جاچکی ہے، تین سال قبل یہ قیمت 3 ہزار روپے تھی۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کرکے تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔


This will close in 30 seconds

AllEscort