روپے کی بے قدری روکنے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ہدایت

imran
imran 17 مئی, 2022
Updated 2022/05/17 at 8:00 صبح
62832d232495c
62832d232495c

زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور روپے کی شدید بے قدری پر وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبہ سازوں کو کہا ہے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع حکمت عملی تشکیل دیں، تاکہ روپے کی تیزی سے گرتی قدر کو روکا اور زرمبادلہ ذخائر کو بہتر کیا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان (ای سی اے پی ) کے چیئرمین ملک بوستان کے ساتھ زوم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ای سی اے پی کی ٹیم سے گزشتہ ہفتے کو شرح تبادلہ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔

ملک بوستان نے بتایا کہ روپے اور امریکی ڈالر کے مابین پریشان کن تعلق کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے، وزیراعظم اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ منگل کو زوم پر ایک اور اجلاس منعقد ہوگا۔

گزشتہ 4 دن میں ہونے والے تین اجلاس اسلام آباد کی طاقتور راہداریوں میں بڑھتی ہوئی پریشانی کو ظاہر کررہے ہیں۔

کرنسی ماہرین نے بتایا کہ اس صورتحال پر قابو پانا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں، جبکہ زرمبادلہ کو سپورٹ کرنے کے لیے ڈالر کی آمد میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضہ ملنے،چائنا کی جانب سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے ‘رول اوور’ اور سعودی عرب سے مدد کی توقع کر رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ سے سکوک بانڈز کے اجرا سے ڈالر کے حصول کی امید کو ملک کے کمزور بیرونی کھاتے کے باعث سپورٹ نہیں مل رہی۔

پچھلی حکومت کے دوران، مرکزی بینک نے ‘فری فلوٹنگ’ شرح تبادلہ کی حکومت کی، جس نے ابتدائی طور پر اچھی کارکردگی دکھائی لیکن اس کے بعد روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوئی۔

مالی سال 2022 بدترین سال ثابت ہوا، ایس بی پی کے ذخائر میں دگنا کمی اور روپے کی قدر میں بھی 20 فیصد تنزلی ہوئی۔

ملک بوستان نے وزیراعظم کو بتایا کہ اوپن مارکیٹ یا ایکسچینج کمنپیز ڈالر کی قدر میں اضافہ کرتی ہیں، درحقیقت، کمرشل بینکس ڈالر کی قیمت میں اضافہ کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ درآمد کنندگان شرح تبادلہ کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں زیادہ ‘ایل سی’ کھول رہے ہیں، جبکہ برآمدکنندگان کم برآمدی رقم دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی قلت کا سامنا ہے۔

ایکسچینج کمپنیز نے مشیرخزانہ کے ساتھ پچھلے اجلاس میں اشیائے ضروریہ کے علاوہ تمام درآمدات پر پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

ای سی اے پی کی جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ زیادہ درآمدی مصنوعات کی ضرورت ہے تو انہیں خود ہی ڈالرز کا بندوبست کرنا چاہیے۔

اجلاس کو یہ تجویز بھی دی گئی کہ ملک بھر میں تمام مارکیٹوں کو سورج غروب ہونے سے پہلے بند کرنا چاہیے، جس سے توانائی کی خاطر خواہ بچت ہوگی جس سے تیل کے درآمدی بل میں کمی ہوگی اور عام عوام کو توانائی کی سپلائی بحال ہوسکے گی۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ سابقہ میکنزم کے ذریعے ڈالر کی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے ملکی معیشت پر نقصانات ہوں گے۔

تحقیقی سربراہ نے بتایا کہ شرح تبادلہ کا تعین مارکیٹ کی قوتوں کے ذریعے ہونا چاہیے، حکومت کو مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو بڑھانے سے لازمی اجتناب کرنا ہوگا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کرکے تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔


This will close in 30 seconds

AllEscort