افغانستان: کابل میں خواتین کا نقاب کے حکم کے خلاف احتجاج

imran
imran 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 5:38 صبح
627a8e0ade2f1
627a8e0ade2f1

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجن بھر خواتین نے طالبان کی جانب سے خواتین کو مکمل طور پر اپنا جسم اور چہرہ ڈھانپنے کا حکم جاری کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کابل کے وسطی کے علاقے میں درجن بھر خواتین نے ‘انصاف، انصاف’ کے نعرے لگائے اور احتجاج کیا، جن میں سے اکثر نے نقاب نہیں کیا ہوا تھا۔

قبل ازیں افغانستان کے سپریم لیڈر اور طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں حکم جاری کیا تھا کہ خواتین روایتی برقعے سے مکمل طور پر خود کو ڈھانپ لیں۔

طالبان کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں حکومت میں واپس آنے کے بعد شروع کی جانے والی پابندیوں میں سے ایک ہے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ‘برقع ہمارا حجاب نہیں ہے’، یہ ان کا ہیڈ اسکارف کے مقابلے میں مکمل چھپانے والے برقعے پر اپنے اعتراض کی طرف اشارہ تھا۔

خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی
خواتین نے انصاف انصاف کے نعرے لگائے—فوٹو: اے ایف پی

 

رپورٹ کے مطابق مختصر احتجاج کے بعد مارچ کو طالبان کے جنگجووں کی جانب سے ختم کرادیا گیا، جنہوں نے واقعے کی رپورٹنگ سے صحافیوں کو بھی روک دیا تھا۔

ہیبت اللہ اخونزادہ کے حکم میں خواتین کو ضروری کام کے علاوہ گھروں میں رہنے کا بھی ذکر تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

مظاہرے میں شریک خاتون سائرہ سما عالمیار کا کہنا تھا کہ ‘ہم انسانوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں جانوروں کی طرح گھر کے ایک کونے میں قید ہو کر نہیں’۔

طالبان لیڈر نے حکم نامے میں نئے ڈریس کوڈ پر عمل نہیں کرنے والی خواتین سرکاری ملازمین کو برطرف اور جن مردوں کی بیویاں اور بیٹیاں اس حکم پر عمل کرنے میں ناکام ہوں تو انہیں معطل کرنے کا کہا تھا۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ان دو ادوار کے درمیان 20 برسوں میں خواتین نے تعلیم اور کام کرنے کی طرف پیش رفت کی لیکن روایتی طور طریقے تاحال جاری ہیں۔

ملک کے کئی علاقوں میں ان 20 برسوں کے دوران بھی روایتی برقع پہنتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس حکومت حاصل کرنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ 1996 سے 2001 کے دوران کیے گئے سخت اقدامات کے مقابلے میں نرمی برتی جائے گی لیکن اس کے باوجود کئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

چند افغان خواتین نے ابتدائی طور پر حکومت پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا جہاں انہوں نے تعلیم اور کام کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم طالبان نے کئی افراد کو حراست میں لیا تھا جبکہ ان کی گرفتاری کے حوالے سے انکار کیا تھا تاہم رہائی کے بعد ان میں سے اکثر خاموش ہیں۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کرکے تازہ ترین اپڈیٹس حاصل کریں۔


This will close in 30 seconds

AllEscort