حمزہ شہباز کی حلف برداری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر لارجر بینچ تشکیل

imran
imran 10 مئی, 2022
Updated 2022/05/10 at 8:27 صبح
6279fab28983d
6279fab28983d

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد عامر بھٹی نے حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عید الفطر سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی تھی اور لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کے ساتھ معاملے کو چیف جسٹس کو بھیج دیا تھا۔

دو رکنی بینچ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ درخواست میں اٹھائے گئے آئینی سوالات پر آئینی طور پر غور کرنے کے لیے 5 یا اس سے زائد ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔

عبوری حکم میں جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صدرِ پاکستان اور گورنر پنجاب کے طرزِ عمل سے متعلق فیصلہ معطل کردیا تھا۔

انٹرا کورٹ اپیل کے فیصلے کے لیےتشکیل دیئے گئے 5 رکنی بینج کی صدارت جسٹس صداقت علی خان کریں گے بینچ میں جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس سہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔

لارجر بینج کی مقدمات کی فہرست ایک یا دو روز میں جاری ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ سبطین خان سمیت 16 اراکین صوبائی اسمبلی نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے ذریعے پی ٹی آئی کی جانب اپیل دائر کی تھی، جس میں نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری میں صدر پاکستان اور گورنر پنجاب کی جانب سےتاخیر کے خلاف تیسری درخواست پر سنگل بینچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اپیل میں کہا گیا کہ آئینی درخواست میں صدر اور گورنر کو فریق بنایا گیا نہ ہی کوئی سماعت کا نوٹس جاری کیا گیا جس سے وہ جواب داخل کر کے مدعا علیہ (حمزہ شہباز) کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو متنازع بنا سکیں۔

اپیل میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حمزہ شہباز کی درخواست برقرار رکھنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اہم قانونی اور آئینی سوالات پر فیصلے کی وجوہات کے ساتھ غور کیا گیا اور نہ ہی ان کو رد کیا گیا۔

انہوں نے دلیل دی کہ فیصلے میں قانون کی لازمی دفعات کی تعمیل نہیں کی گئی اور سنگل جج نے آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کے تحت ضمانت شدہ مناسب عمل کے بغیر غیر قانونی فیصلہ سنایا۔

اپیل میں مزید کہاگیا کہ حمزہ شہباز کی پچھلی دو اپیلوں میں دیئے گئے فیصلے آئین کے مطابق نہیں تھے اور آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت اس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ ہائی کورٹ کو نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے لیے قومی اسمبلی کے اسپیکر سمیت کسی مخصوص شخص کو نامزد کرنے کا اختیار نہیں ہے، یہ غیر قانونی فیصلہ آئین کی مختلف شقوں، قابل اطلاق قانون کی خلاف ورزی اور غیر پائیدار عمل ہے۔

اس اپیل پر دو رکنی بینچ کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ان کی مدد کے لیے پہلے ہی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے